ڈاکٹر سلیم اختر | Dr Saleem Akhtar | Fun Aur Shkasiyat | ڈاکٹر طاہر تونسوی All Books" " " " : " (: ) Pages 702
بھینس کی طرح کھلے میدانوں میں چرنے کے بعدتالاب میں نہانا بلکہ کیچڑ میں لت پت ہونا ، مالیوں کے باغ سے سیب اور گالیاں کھانا، دھوپ میں لیٹ کر جگالی کرنا اور سر شام ماں کے کوسنے اور ’’ڈوٹے ‘‘ کھا کر سو جانا۔ایسے شب و روز میں سفر کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ ضرورتاً پنڈی جانا پڑتا تو منگ کے مقام پرقبضہ مخالفانہ چھڑانے کے لیے مارکھانا پڑتی اور دوچار میل کھڑے رہ کر سفر بھی کرنا پڑتا۔عقل آنے پر عالم یہ تھا کہ رات کے پچھلے پہرمنگ پہنچنے پربا ادب کھڑے ہو جاتے۔’’آئیے جناب یہ سیٹ ہم پنڈی سے آپ کے لیے ریزرو کروا کہ لائے ہیں۔آئیے تشریف رکھیے ‘‘۔ پہلی بار کراچی جانا ہوا تو آغاز سفر میں ہی لڑائی ہو گئی۔نتیجۃً وزیر آباد کے مقام پر ریلوے پولیس کے حوالے کر دیا گیا۔ دے دلا کر جان چھوٹی اور تیسرے دن کراچی پہنچے۔اسی لیے سفر سے چڑ ہے۔ لہٰذا جب بھی سفر کیا بامر مجبور ی کیا۔ شوقیہ سفر کے ماروں سے ہماری کبھی نہیں بن پائی۔ ہمیں تو بھینس نما لوگ چاہئیں جو بیٹھ جائیں تو اٹھنے کا نام نہ لیں۔مگر ہمارے بیٹھنے پر بھی بزرگوں کو اعتراض رہتا تھا۔ کبھی آملوک یا اخروٹ کے اونچے ، سوکھے ٹہنے پر بیٹھ گئے ،کبھی ’’ادھ کندی‘‘پر یا مکان کی چھت پر۔ بزرگ کہتے ’’کیوںکِلیوں پر انڈے دے رہے ہو‘‘؟ تب سے ہم نے ’’کِلیوں ‘‘کی بجائے سکول میں انڈے دینا شروع کر دیے۔ مگربرادرم جاوید خان کو یہ غلط فہمی ہے کہ یہ کوئی پڑھا لکھا آدمی ہے۔آج کا مضمون لکھنے کی نوبت نہ آتی تو یہ بھرم تادیر قائم رہتامگر حقیقت کب تک چھپ سکتی ہے۔سفر ہمیں کسی صورت راس نہیں آتا۔ نیند اور تھکاوٹ سے حالت خراب ہو جاتی ہے۔ کھانے کو ڈھنگ کا ملتا ہے نہ پینے کو۔ بڑی ائر لائنوں میں بھی پینے کے لیے چلّو بھر پانی ملتا ہے۔اور کچھ ہو نہ ہو قبض تو لازم ہو جاتی ہے۔ایک دن رات کا سفر ایک ہفتہ خراب کر دیتا ہے۔ سوسفر کے تذکرے سے جس نامراد کی طبیعت خراب ہونے لگے اگر اسے سفرنامہ پڑھنا پڑے تو خود اندازہ کیجیے کہ اس پر کیا گزرے گی۔اور سفر نامہ بھی یورپ، امریکہ کے رنگین گلی کوچوں کی بجائے …ہمالیہ کے سنگلاخ پہاڑوں کا ہو تو سمجھ لیجیے کہ دونوں میں سے کسی ایک کی خیر نہیں۔قاری نہیں یا سفر نامہ نہیں۔یہ سفر بھی کوئی آسان سفر نہ تھا۔خصوصاًایسے دنوں میںجب کسی کو کھانے پینے کی چیزیں دیکھ کر اُبکائیاں آتی ہوں، جی متلاتا ہو اور نیند بھی ٹھیک سے نہ آتی ہو، سفر سے پرہیز کرنی چاہیے۔چہ جائیکہ اس قدر پر خطر راستوں پر نکل جائیں۔چلو جو ہوا سو ہوا، مٹی پاؤ۔ مٹی پالیتے اگر بات سفر تک ہی رہتی۔ مگراتنے مشکل سفر کا روزنامہ بھی لکھ دیا۔ یقیناعام آدمی کے بس کی بات نہیں۔ مصنف موصوف نے کتاب پر اس قدر محنت کی ہے کہ اس کی نوک پلک سنوارنے میں ان کی کئی ہفتے لگے ہو ں گے۔ بہرحال جتنی محنت کرنی تھی کر لی اب تو محنت کا میدان بدل گیا ہے۔
”آوارہ کتا جو بہت دیر سے کچرے میں کھانا تلاش کر رہا تھا۔ خون کی بو پا کر تھوتھنی ہوا میں اٹھاتا، سونگھتا ہوا دھجی تک آن پہنچا۔ بھوک سے بے تاب کتے نے جلد ہی ناخنوں اور پنجوں کی مدد سے نرم گوشت کے اس حرامی ٹکڑے کو چیڑ پھاڑ دیا“۔ اس کے بعد ایک دو مزید افسانے پڑھے تو احساس ہوا کہ افسانہ نگار اپنی کہانی کہنے اور اپنے اسلوب کے ذریعے ایک منفرد فضا قائم کرنے کی مہارت رکھتی ہیں۔ ہاں لیکن ان کی یہ فضا یک رخی اور مخصوص ہے، جس میں تلخی ہی تلخی ہے۔ سوچ زار 2019 میں شائع ہونے والے افسانوی مجموعوں میں ایک بہترین اضافہ ہے۔ دو سو اٹھاسی صفحات پر مشتمل اس کتاب میں مجموعی طور پر ستائیس افسانے موجود ہیں اور اسے ”فکشن ہاؤس“ نے شائع کیا ہے۔
مصنف | ڈاکٹر محمد ممتاز خان
پاکستان میں حزبِ اختلاف کی سیاست
یہ آج اور کل کے لاہور کے بعض پہلوؤں کی تصویر ہے جس میں تخیل یا سنی سنائی باتوں کی بجائے تاریخی حقائق کو ترجیح دی گئی ہے۔ جنہیں آج ہم رومان سمجھتے ہیں۔
یہ کتابیں ڈیل کارنیگی کی تحریروں کا نیا ایڈیشن نہیں ہیں۔ میں اس شہرہ آفاق مصنف کی اہمیت کو کم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ البتہ یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ کتابیں ڈیل کارنیگی کی طرح آپ کو محض کامیاب زندگی گزارنے کے ڈھنگ نہیں سکھاتیں ۔ ان کا حقیقی مقصد خوبصورت اور تخلیقی زندگی گزارنے میں آپ کی مدد کرتا ہے۔
سوال و جواب کی دنیا عجیب ہوتی ہے
فرانس بیکن کی مضمون نگاری الفاظ کا وہ گلشن ہے جہاں ہر خیال ایک گل تر کی مانند مہک رہا ہے ، ہر نکتہ ایک نقر ئی نغمے کی طرح گونجتا ہے، اور ہر استدلال ایک آئینہ فہم ہے جو ذہن کی گرد کو صاف کرتا ہے۔ اس کی نثر میں نہ کوئی اضافی بوجھ ہے نہ کسی لفظ کی کاہلی، بلکہ ہر لفظ تراشا ہوا، ہر جملہ تولا ہوا، اور ہر خیال تر از دئے خرد میں پر کھا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ بیکن کے مضامین وہ نقر ئی دھارے ہیں جو انسانی فطرت کی پیچیدہ وادیوں سے گزر کر ایک وسیع و عمیق سمندر کی صورت اختیار کر لیتے ہیں، جہاں افکار کی موجیں ایک دوسرے سے بغل گیر ہوتی ہیں، اور خیالات کی لہریں فہم و بصیرت کے ساحل سے ٹکراتی ہیں۔
بہت سے لوگوں کی طرح، پاؤلو کوئلہو بھی ماتا ہری کے لافانی جادو سے محفوظ نہیں رہا اور اس نے حالاتی شواہد پر انحصار کرتے ہوئے اپنی زندگی اور موت کی داستان لکھ کر اس تاریخی معمے کے گمشدہ ٹکڑوں کو اکٹھا کرنے کی کوشش کی۔ اپنی کہانی کی ہیروئین کو پیش کرنے میں، اس کے پاس نہ تو فلوبرٹ کی خوبصورتی ہے اور نہ ہی ٹالسٹائی کی آئیڈیلزم؛ لیکن وہ جانتا ہے کہ آج کے شکی، بے صبر، لیکن متجسس قاری کے لیے اتنی سادہ اور پرکشش زبان میں ایک کہانی کو بہت سے نامعلوم کے ساتھ کیسے پہنچانا ہے۔
وہ جو نغمے ہاتھوں سے پکڑتی تھی
مصنف خالد محمود ایڈووکیٹ / ڈاکٹر جام سجاد حسین
خورشید کمال قرآن کے علاوہ حضرت علی کے خطبات پر مشتمل کتاب 'نہج البلاغہ' کا بھی منظوم پنجابی ترجمہ بھی کر چکے ہیں جس کے